غازی ارتغل

نکمے اور نا اہل لوگ ہمیشہ اپنا آپ چھپانے کے لیے کسی تلاش میں رہتے ہیں اور مختلف حیلوں بہانوں سے اپنا آپ چھپاتے ہیں۔
اور بہانے تراشنے میں ماہر ہوتے ہیں۔
یہ کسی خاص قوم کی طرف اشارہ نہیں۔

کچھ عرصہ قبل ڈراما غازی ارتغل منظرِ عام پر آیا جو ایک انتہائی نوجوان ہدایتکار محمد بزداغ نے بنایا۔
لیکن پوری دنیا کے انڈسٹری کو بے برہم کر دیا۔
حالاں کہ ڈراما بنانے والے کا یہ مقصد ہرگز نہیں ہو گا۔
سب سے پہلے مغرب والوں کو یہ ڈراما ایک خطرہ نظر آیا،
پھر ان کی تقلید میں ایشیا والوں کو ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں رکھنے کا خیال آیا اور تنقید کا آغاز کر دیا۔

مشرق وسطی عرب والوں کی تنقید تو جائز تھی کیوں کہ شاید مستقبل میں معاہدہ لوزین کی مدت معیاد کا اختتام جو کہ 2023 میں ہو رہا ہے اور کچھ نہ ہو سکا تو معاشی منظر نامہ ضرور تبدیل ہو گا۔

پھر آ گیا جنوبی ایشیا اب بھارت کو بھی اپنی انڈسٹری کو محض ایک ڈرامے سے خطرہ محسوس ہونے لگا۔
کیوں کہ تاریخ پہ مبنی ڈراموں کی بات کی جائے اور اگر بھارت کوئی تاریخی ڈراما بنا بھی لے یا بھارت کی گزشتہ تاریخ پہ مبنی ڈراموں یا فلموں کی بات کی جائے تو وہ سراسر دروغ گوئی کے سوا کچھ نہیں۔ اور تاریخ پر مبنی بنائیں بھی تو کیا ؟
کیوں کہ تاریخی لحاظ سے جتنا یہ ذلیل و خوار ہوئے ہیں شاید ہی کوئی قوم ہوئی ہو کبھی مغلوں اور کبھی انگریزوں کی غلامی۔
اور انڈین ڈراموں کا معیار سب کے سامنے ہے جو پاکستان سے بھی کم درجے کا ہے۔
انڈین ڈراما موضوعات کا ذکر کرنا ہی بیجا ہے مطلب صرف اچھا کیمرہ ہی سب کچھ نہیں ہوتا۔
ایسے ڈرامے صرف ڈبوں میں بند ہو کر رہ جاتے ہیں۔

اب وطن عزیز کی بات۔
پاکستان میں ضخیم اور زرخیز ذہنوں کی کوئی کمی نہیں موجودہ ڈراما پروڈیوسرز کا جائزہ لیا جائے تو اکثر بیچارے لبرلزم کا شکار ہو کر قابلِ رحم ہو گئے ہیں اُنہیں ادب بھی صرف منٹو کا نظر آتا ہے۔
باقی ادب شاید ان کو ادب ہی نہیں لگتا۔
کیا ممتاز مفتی،عبداللہ حسین،نسیم حجازی کا کام ادب میں شمار نہیں ہوتا؟
کیا پاکستان کے پاس آج مسلم تاریخ پہ دکھانے کے لیے کچھ نہیں۔
محمد بن قاسم اس خطےکی مسلم تاریخ کا اچھا اور بنیادی موضوع ہے
محمود غزنوی، شہاب الدین غوری اور بعد میں خاندانِ سادات،خاندانِ خلجی، خاندانِ غلاماں، خاندانِ تغلق، خاندانِ لودھی، مغل خاندان، سوری خاندان انہوں نے کچھ تو اچھے کام کیے ہیں جن کو اجاگر کیا جا سکتا ہے زوال تو بعد میں آیا اور زوال تو عثمانیہ سلطنت پر بھی آیا تھا۔

پاکستان میں ہر دور میں لکھنے والے ترقی یافتہ ممالک
کے زیرِ اثر رہے،
کافی لوگوں نے قلم کو بیچا بھی۔ سوال یہ ہے کہ کیا ضروری تھا کہ روس ہی کسی کو کچھ انعام دیتا تب ہی کچھ لکھا جاتا۔
خیر بات موضوع کی ہو تو بہتر ہے باقی پھر سہی۔
جہاں تک پاکستانی ڈراما موضوعات کی بات ہو تو
پاکستانی ڈراموں میں سوائے میاں بیوی،ساس بہو،نند،بھاوج کے باہمی جگھڑوں کو اور کتنا دیکھا جائے؟
کوئی ایسا چینل ہے جس نے ان موضوعات سے ہٹ کر کبھی بات کی ہو؟
اور ان ڈراموں نے معاشرتی نظام کو کس قدر کمزور کیا ہے یہ ایک الگ موضوع ہے۔
ایک وقت تھا جب پاکستان میں بھی کچھ معیاری بنتا تھا۔
عائلی زندگی کے موضوعات سے ہٹ کر اگر کسی نے کچھ کیا تو وہ عصر حاضر کے لوگوں میں ایک نام عاشر عظیم ہے پھر اس کے ساتھ پاکستان میں جو ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔
جب اچھا کام ہوتا تھا تو سب کو نظر بھی آتا تھا۔
پختہ ذہنوں کی بات چھوڑیں عینک والا جن کے بعد پاکستان میں بچوں کے لیے کوئی ڈراما نہیں بن سکا۔
اُس کے ہدایت کار حفیظ طاہر صاحب کے ساتھ کیا ہوا؟
یہ ایک الگ المیہ ہے۔

اس لیے آج ہمارے بچے روزمرہ بول چال میں ہندی ڈبنگ کارٹون دیکھ دیکھ کر ہندی بولتے نظر آتے ہیں۔
آج اگر ایک ترک ڈرامے کی صورت میں لاثانی اور معیاری کام دیکھنے کو میسر آ رہا ہے تو ہمارے اداکاروں کو ثقافتی یلغار لگ رہی ہے۔
ان سب اداکاروں اور ہدایت کاروں نے ذاتی حیثیت میں ڈراما یا فلم انڈسٹری کو اگر کچھ معیاری دیا ہو تو بتائیں؟
اپنی نا اہلیوں کو بغض میں تبدیل کر کے ثقافتی یلغار نہ کنھیں۔
آخری بات سوال یہ ہے کہ آج وہ لوگ بھی غازی ارتغل دیکھ رہے ہیں جنہوں نے آج تک ڈراما نہیں دیکھا حالاں کہ یہ محض ڈراما ہے اور بمطابق مخالفین ڈراما ہذا نہ تو اس ڈرامے سے ترک سلطنت دوبارہ بن سکتی ہے اور نہ یہ ڈراما سو فیصد حقیقت ہے تو سوچنے کی بات ہے پھر خطرہ کس بات سے؟
پھر لوگوں کے اس ڈرامے کی مدح سرائی کرنے پہ اعتراض کس بات کا؟
پھر کیسی ثقافتی یلغار اور پاکستانی ڈراموں میں جس گندی ثقافت کو جگہ دی ہوئی ہے وہ ثقافت جو 1947 کے بعد بھی ہمارا پیچھا نہیں چھوڑ رہی۔
کیا وہ ثقافتی یلغار بہتر ہے ترک ثقافت سے؟
شاید کوئی متفق ہو کہ نہ ہو لیکن ترک ثقافت بہت سی ثقافتوں سے بہتر ہے باقی آزاد خیال طبقہ ہر ملک میں ہوتا ہے۔
اسرائیل میں بھی دو طرح کے طبقات موجود ہیں مذہبی اور روشن خیال،
اگر کسی نے ترک لوگوں کا نماز کے لیے اہتمام اور خشوع وخضوع دیکھا ہو تو وہ دیدنی ہوتا ہے۔
اُن کا ہر لمحہ ایک دوسرے کو دعائیں دینا یہ بھی مثالی ہے۔
اس لیے ہم کب تک دوسروں پہ تنقید کر کے اپنا آپ چھپا سکتے ہیں اور کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر سکتے ہیں؟

یہی وجہ ہےآج پاکستان کا بڑا مسلہ غربت نہیں اخلاقیات ہے۔
کیوں کہ آج عمل کی انتہائی کمّی ہے۔
اللہ ہمارے حال پر رحم فرمائے آمین۔